تحریر: ڈاکٹر عدنان عمر (فارماسسٹ)
ملیریا انسانی تاریخ کی ان چند بیماریوں میں سے ایک ہے جس نے جنگوں سے زیادہ ہلاکتیں کیں اور تہذیبوں کو متاثر کیا۔ تلونڈی (قصور) جیسے علاقوں میں، جہاں زراعت
اور پانی کا ذخیرہ عام ہے، ملیریا کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
 |
| ملیریا کیسے کام کرتا ہے |
ملیریا کیا ہے؟ (What is Malaria?)
ملیریا ایک جان لیوا بیماری ہے جو "پلازموڈیم" (Plasmodium) نامی پیراسائٹ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ پیراسائٹ مادہ مچھر "اینافیلیز" (Anopheles) کے کاٹنے سے انسان کے خون میں داخل ہوتا ہے۔ خون میں شامل ہونے کے بعد یہ سیدھا جگر (Liver) پر حملہ کرتا ہے اور پھر خون کے سرخ خلیات (Red Blood Cells) کو تباہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔
ملیریا کتنا خطرناک ہے؟
ملیریا کو معمولی بخار سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ درج ذیل پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے:
 |
| Maleriya |
دماغی ملیریا (Cerebral Malaria): جس میں مریض بے ہوش ہو سکتا ہے یا اسے جھٹکے لگ سکتے ہیں۔
خون کی شدید کمی (Anemia): سرخ خلیات کی تباہی کی وجہ سے جسم پیلا پڑ جاتا ہے۔
اعضاء کا فیل ہونا:
یہ گردوں اور جگر کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔
ملیریا کی تاریخ اور انسانی نقصانات
ملیریا کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے:
قدیم تاریخ: قدیم رومیوں اور یونانیوں کے دور میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ اسے "رومن فیور" بھی کہا جاتا تھا کیونکہ اس نے رومی سلطنت کی فوجوں کو مفلوج کر دیا تھا۔
تاریخی ہلاکتیں: ایک اندازے کے مطابق، انسانی تاریخ میں ہونے والی کل اموات کا ایک بڑا حصہ ملیریا کی وجہ سے رہا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک یہ دنیا کے تقریباً ہر کونے میں موجود تھا۔
نقصانات: ملیریا نے نہ صرف انسانی جانیں لیں بلکہ معیشتوں کو بھی اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا، کیونکہ بیمار کسان اور مزدور کام کرنے کے قابل نہیں رہتے تھے۔
ملیریا اب کتنا خطرناک ہے؟ (موجودہ صورتحال)
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی رپورٹ کے مطابق، آج بھی ہر سال دنیا بھر میں 24 کروڑ سے زائد لوگ ملیریا کا شکار ہوتے ہیں اور تقریباً 6 لاکھ اموات ہوتی ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں، خاص طور پر سیلاب یا مون سون کے بعد، ملیریا کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔
احتیاط اور بچاؤ (Prevention is Better Than Cure)
ایک ماہرِ صحت کے طور پر میری تجویز ہے کہ آپ ان تدابیر پر سختی سے عمل کریں:
مچھر دانی کا استعمال: سوتے وقت مچھر دانی (Mosquito Nets) کا استعمال ملیریا سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
پانی جمع نہ ہونے دیں: اپنے گھر اور گلیوں میں کھڑا پانی نکال دیں، کیونکہ مچھر وہیں انڈے دیتے ہیں۔
مچھر بھگاؤ لوشن: شام کے وقت جسم کے کھلے حصوں پر ریپیلنٹ (Repellent) کا استعمال کریں۔
پوری آستین کے کپڑے: ہلکے رنگ کے اور پوری آستین والے کپڑے پہنیں تاکہ مچھر کے کاٹنے کا امکان کم ہو۔
ڈاکٹر عدنان عمر کا پیغام:
اگر آپ کو سردی لگ کر تیز بخار ہو، پسینہ آئے یا شدید سر درد ہو، تو اسے عام وائرل سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ فوراً اپنے قریبی مستند ڈاکٹر یا ہم سے حسین علی فارمیسی تلونڈی پر رابطہ کریں تاکہ آپ کا ٹیسٹ (MP Test) ہو سکے اور صحیح علاج شروع کیا جا سکے۔
رابطہ: 03084722921
سوشل میڈیا: @dr
مزید اہم معلومات:
موسم کی تبدیلی کے ساتھ پھیلنے والی دیگر خطرناک بیماریوں اور ان سے بچاؤ کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے ہماری یہ تحریر بھی ضرور پڑھیں:
مصنف کے بارے میں جانیں
ڈاکٹر عدنان عمر ایک پیشہ ور فارماسسٹ، سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور سماجی کارکن ہیں۔ ان کی زندگی اور خدمات کے بارے میں تفصیلی جاننے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں۔
ڈاکٹر عدنان عمر کی مکمل بائیو گرافی
Very informative information thanks
ReplyDeleteVery informative information thanks
ReplyDelete