برمودا ٹرائینگل کا خوفناک سچ: 2026 کی وہ تحقیق جس نے سائنسدانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا!
ایک خصوصی طبی رپورٹ بذریعہ: ڈاکٹر عدنان عمر (فارماسسٹ)
نظامِ ہضم کی خرابیاں، خاص طور پر ہیضہ اور اسہال، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صحت کے بڑے مسائل میں سے ایک ہیں۔ گرمیوں کے آغاز اور مون سون کے موسم میں ان امراض میں شدت آ جاتی ہے۔ ہیضہ ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جو چند گھنٹوں کے اندر جسم کو پانی سے خالی کر سکتی ہے، اس لیے اس کے بارے میں آگاہی ہر شہری کے لیے ضروری ہے۔
ہیضہ ایک شدید متعدی بیماری ہے جو "ویبریو کولری" (Vibrio cholerae) نامی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا عام طور پر آلودہ پانی یا فضلے سے متاثرہ خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی پہچان سفید رنگ کے پتلے پاخانے ہیں، جنہیں طبی زبان میں "Rice Water Stools" کہا جاتا ہے۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اسہال یا ڈائریا اس کیفیت کو کہتے ہیں جب ایک دن میں تین یا اس سے زیادہ بار پتلے پاخانے آئے۔ یہ وائرل انفیکشن، بیکٹیریل انفیکشن یا کبھی کبھی بدہضمی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ اسہال کی صورت میں جسم سے نہ صرف پانی بلکہ ضروری نمکیات (Electrolytes) بھی خارج ہو جاتے ہیں، جس سے مریض شدید کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔
ہیضہ اور اسہال کے ساتھ پیٹ میں مروڑ اٹھنا ایک عام علامت ہے۔ پیٹ درد کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں فوڈ پوائزننگ، معدے کی تیزابیت، آنتوں کی سوزش یا جراثیمی انفیکشن شامل ہیں۔ جب آنتوں میں انفیکشن ہوتا ہے تو وہ فضلہ خارج کرنے کے لیے زیادہ تیزی سے حرکت کرتی ہیں، جس سے مروڑ اور شدید درد محسوس ہوتا ہے۔
ان بیماریوں کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ صفائی کا فقدان ہے۔ آلودہ پانی پینا، کچی یا کھلی ہوئی اشیاء کھانا، ہاتھوں کو صابن سے نہ دھونا اور مکھیوں کا کھانے پر بیٹھنا جراثیم کی منتقلی کا باعث بنتا ہے۔ خاص طور پر بازار کے کھلے جوسز اور کٹی ہوئی فروٹ چاٹ ہیضے کے جراثیم کا گڑھ ہوتے ہیں۔
مریض کی جان بچانے کے لیے پانی کی کمی کو پہچاننا ضروری ہے۔ اگر مریض کی آنکھیں اندر کو دھنس جائیں، زبان خشک ہو جائے، پیشاب کی مقدار کم ہو جائے اور بلڈ پریشر گرنے لگے تو سمجھ لیں کہ جسم میں پانی کی خطرناک حد تک کمی ہو چکی ہے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر ڈرپ (IV Fluids) کی ضرورت ہوتی ہے۔
بطور فارماسسٹ میرا مشورہ ہے کہ اسہال کی صورت میں فوری طور پر او-آر-ایس (ORS) کا استعمال شروع کریں۔ اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال صرف تب کریں جب ڈاکٹر یا فارماسسٹ تجویز کرے۔ بعض اوقات سادہ وائرل ڈائریا میں اینٹی بائیوٹک کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ صرف نمکیات کی بحالی سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ بچوں کے لیے زنک (Zinc) کے شربت کا استعمال آنتوں کی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔
ہمارے معاشرے میں پیٹ خراب ہونے پر نیم حکیم عجیب و غریب سفوف اور بھاری ادویات دیتے ہیں جو جگر اور گردوں پر بوجھ ڈالتی ہیں۔ یاد رکھیں، ہیضے کی صورت میں وقت ضائع کرنا جان لیوا ہو سکتا ہے۔ کسی بھی "کالی پٹری" یا غیر مستند دم درود والے نسخے کے بجائے قریبی کلینک یا ہسپتال سے رجوع کریں۔
بچاؤ علاج سے بہتر ہے۔ ہمیشہ ابلا ہوا پانی استعمال کریں، سبزیاں اور پھل دھو کر کھائیں، اور کھانے سے پہلے ہاتھ صابن سے دھونے کی عادت ڈالیں۔ باہر کے کھانوں سے پرہیز کریں اور گھر میں ہمیشہ ORS کے چند پیکٹ موجود رکھیں۔ صفائی کا خیال رکھ کر آپ نہ صرف خود کو بلکہ اپنے خاندان کو بھی ان موذی امراض سے بچا سکتے ہیں۔
صحت اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ معمولی سا اسہال اگر نظر انداز کیا جائے تو گردے فیل ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ تلونڈی اور قصور کے عوام کے لیے میری فارمیسی کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں جہاں آپ کسی بھی وقت مفت مشورہ کر سکتے ہیں۔ درست معلومات اور بروقت علاج ہی زندگی کی ضمانت ہے۔
نیچے دیے گئے بٹنز پر کلک کر کے متعلقہ موضوع کے بارے میں مکمل تفصیلات پڑھیں:
سابق فرسٹ کلاس کرکٹر و سوشل ایکٹیوسٹ
حسین علی فارمیسی، مین بازار تلونڈی، قصور
Comments
Post a Comment