برمودا ٹرائینگل کا خوفناک سچ: 2026 کی وہ تحقیق جس نے سائنسدانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا!
پاکستان کی تاریخ میں عمران خان کا دورِ حکومت ایک ایسی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھنے کی کوشش تھی جس کا خواب بانیانِ پاکستان نے دیکھا تھا۔ عمران خان نے ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ہر غریب خاندان کو سالانہ 10 لاکھ روپے تک کے مفت علاج کی سہولت فراہم کی، جو کہ بڑے نجی ہسپتالوں میں بھی میسر تھی۔ یہ ایک ایسا انقلابی قدم تھا جس نے غریب اور امیر کے درمیان علاج کے فرق کو ختم کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، سڑکوں پر سونے والے بے سہارا لوگوں کے لیے پناہ گاہیں قائم کیں تاکہ کوئی بھی پاکستانی چھت کے بغیر نہ رہے۔
عمران خان نے کسان کارڈ جاری کیا اور شوگر مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے گنے کے کسانوں کو ان کی ادائیگی وقت پر یقینی بنائی۔ ان کے دور میں کسان خوشحال تھا کیونکہ فصلوں کی قیمتیں بلند تھیں اور پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔
| اشاریہ | عمران خان دور (2021) | موجودہ دور (2026) |
|---|---|---|
| پٹرول کی قیمت | 150-160 روپے | 400+ روپے |
| برآمدات (Exports) | $31.7 Billion | مسلسل کمی کا شکار |
| اکنومی گروتھ (GDP) | 6.1% (FY2022) | انتہائی سست روی |
| فی کس آمدنی (Per Capita) | $1,798 | معاشی گراوٹ کا شکار |
جب پوری دنیا مکمل لاک ڈاؤن میں تھی، عمران خان نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی تاکہ غریب کی دیہاڑی نہ رکے۔ عالمی اداروں اور معتبر جریدوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان دنیا کا تیسرا ملک تھا جس نے کرونا کو جڑ سے اکھاڑا اور معیشت کو بھی بچایا۔ اس دوران احساس پروگرام کے تحت 12،12 ہزار روپے ہر مستحق خاندان کو دیے گئے۔
عمران خان نے "ایبسلیوٹلی نوٹ" کہہ کر امریکی فوجی اڈوں کی ڈیمانڈ مسترد کر دی۔ اگر وہ اڈے دے دیتے تو آج پاکستان ہمسایہ ممالک (ایران و افغانستان) کے ساتھ جنگ کا شکار ہوتا۔ ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کو امریکہ کا ساتھ دینا پڑھتا پھر ایران بھی پاکستان پر بھی حملے کر رہا ہوتا اس صورت میں ایران اور پاکستان کے مابین جنگ تک ہو سکتی تھی اور اس وقت پاکستان مذاکرات کا گھر نہیں جنگ کا میدان ہوتا۔ عمران خان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جس انداز میں دوران دیشی کا استعمال کیا ایسا اب کی حکومت یا اسٹبلشمنٹ کی سوچ میں بھی نہیں
انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور قائداعظم کے موقف پر ڈٹ گئے۔ اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منظور کروانا اور ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے عالمی قانون سازی ان کا تاریخی کارنامہ ہے۔
جب شہزادہ محمد بن سلمان نے پوچھا کہ کیا چاہیے؟ تو خان نے اپنے لیے نہیں بلکہ سعودی جیلوں میں قید غریب مزدوروں کی رہائی مانگی۔
عمران خان روس سے سستی گندم اور تیل لانا چاہتے تھے، جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ کو گوارا نہ تھا۔ 9 اپریل کی رات عدالتیں کھلیں اور ایک سازش کے تحت حکومت گرا دی گئی۔ امریکہ کو ابسلیوٹلی ناٹ کہنا شاید امریکہ کو پسند نہیں آیا تو پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹاسک ملا بندے خریدو حکومت گراؤ۔ اس کے بعد ہیلتھ کارڈ، کسان کارڈ اور پناہ گاہیں بند کر دی گئیں۔ غریب خودکشیوں پر مجبور ہو گئے اور نوجوان ملک چھوڑ کر جانے لگے۔ ڈنکیاں لگاتے ہوئے ہمارے نوجوان جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی قوم کو دیا گیا شعور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 70 سال سے فیصلے بند کمروں میں کیسے ہوتے ہیں۔ آج قوم اپنی اشرافیہ سے حساب مانگ رہی ہے۔ عمران خان جیل میں بیٹھ کر بھی پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے، کیونکہ اس نے قوم کو جھکنا نہیں بلکہ لڑنا سکھایا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے نیچے بٹن پر کلک کریں
مزید معلومات کے لیے نیچے بٹن پر کلک کریں
Leader
ReplyDelete