برمودا ٹرائینگل کا خوفناک سچ: 2026 کی وہ تحقیق جس نے سائنسدانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا!
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عمران خان کا کردار ایک انقلابی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی حکومت کا خاتمہ صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک بڑے بیانیے، ایک جدوجہد اور ایک عوامی بیداری کا آغاز تھا۔
عمران خان کی حکومت کو ختم کرنے کے پیچھے بیرونی دباؤ، امریکی اثر و رسوخ اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔ ان کے حامیوں کے مطابق ایک خودمختار خارجہ پالیسی بعض طاقتوں کو قبول نہ تھی۔
امریکہ نے پاکستان میں ایک سائفر بھیجا کہ عمران خان کی حکومت ختم کر دو تو پاکستان کو معاف کر دیا جائے گا جو کہ ایک آزاد عمران خان کو غلام بنانے کا پلان تھا اس میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا کردار انتہائی گھٹیا رہا
عمران خان نے اقوام متحدہ میں تقریباً 45 منٹ طویل خطاب کر کے اسلاموفوبیا کے خلاف دنیا کو جھنجھوڑ دیا۔ ان کا پیغام واضح تھا:
"ہم لا الہ الا اللہ پر یقین رکھتے ہیں، ہم کسی سے نہیں ڈرتے، ہماری زندگیاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے وقف ہیں"
عمران خان کی قیادت میں اقوام متحدہ نے پہلی بار "اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن" منظور کیا، جو ایک تاریخی سفارتی کامیابی تھی۔ اس سے پہلے دنیا کا کوئی لیڈر اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی سطح پر کوئی قانون پاس نہیں کروا سکا یہ زبردست کامیابی عمران خان کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی نشانی ہے۔ اللہ نے یہ سعادت صرف عمران خان کو بخشی
چینی بحران پر عمران خان نے اپنی ہی پارٹی کے قریبی لوگوں جیسے علیم خان اور جہانگیر ترین کے خلاف کارروائی کی، جو احتساب کی ایک مثال تھی۔ جہانگیر ترین نے چینی کے بحران کے وقت پاکستان سے چینی باہر بھیجی تو عمران خان نے جہانگیر ترین جیسے بندے کو بچانے کی بجائے احتساب کا نظام اپنایا اور اپنے امیر ترین دوست کو اپنا مخالف بنا لیا
عمران خان کے دور میں معیشت سنبھل رہی تھی، جبکہ ان کے جانے کے بعد مہنگائی، ڈالر کی قیمت اور معاشی بدحالی نے عوام کو شدید متاثر کیا۔ آج پوری قوم عمران خان کی معاشی پالیسیوں کی گواہ ہے پاکستان ترقی کے راستے پر گامزن تھا عمران کی حکومت کے بعد ترقی تنزلی میں بدل گئی
عمران خان کے دور میں کسان خوشحال تھا، جبکہ بعد میں کھاد، ڈیزل اور بجلی مہنگی ہونے سے کسان کی کمر ٹوٹ گئی۔ کسان کو فصل کا پورا ریٹ ملتا تھا شوگر مافیا کے خلاف زبردست کریک ڈاؤن نے گنے کی فصل کو منافع بخش بنا دیا کسان کو بروقت اور پوری قیمت ملنا شروع ہوئی
شہباز گل کو اغوا کے بعد گرفتار کیا گیا شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ عمران خان کے خلاف گواہی دو
جبکہ عمران ریاض خان کو شدید دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعات آزادی اظہار پر سوالیہ نشان ہیں۔
2024 کے انتخابات میں عوام نے بھرپور حمایت کی پاکستان تحریک انصاف اپنا انتخابی نشان نہ ہونے کے باوجود پورے پاکستان میں وائٹ واش کر رہی تھی اسٹبلشمنٹ کے بھرپور مخالف کے باوجود 90 فیصد کامیابی حاصل کی مگر فارم 47 کے ذریعے مبینہ دھاندلی نے نتائج کو تبدیل کر دیا اور فارم 47 کی جعلی حکومت کو صرف 17 سیٹوں والی پارٹی کو حکومت دے دی۔
عمران خان کو گرفتار کر کے قید تنہائی میں رکھا گیا، آج تین سال سے کپتان قید تنہائی کاٹ رہا ہے لیکن اپنی غیرت کا سودا نہیں کر رہا وہ آج بھی ڈٹ کے کھڑا ہے۔ 85 فیصد بینائی جانے کے باوجود وہ قوم کے وقار کی جنگ لڑی رہا ہے
حکومت کے خاتمے کے بعد عوام سڑکوں پر نکل آئی اور عمران خان کے ساتھ کھڑی ہو گئی، جو ایک سیاسی انقلاب کی علامت ہے۔ عمران خان نے پاکستانی عوام کی آنکھوں سے پردے ہٹائے اور دیکھایا کیسے 75 سال سے اسٹبلشمنٹ ملک کا ستیاناس کر رہی ہے۔ عمران خان نے پاکستانی عوام کو شعور دیا یہی وجہ ہے آج ظلم کی ہر حد پار ہونے کے باوجود پوری قوم خصوصاً نوجوان عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں
💕
ReplyDeleteAa
ReplyDelete