برمودا ٹرائینگل کا خوفناک سچ: 2026 کی وہ تحقیق جس نے سائنسدانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا!
آڈیو سننے کے لیے پلے بٹن پر کلک کری
قسط نمبر 2: ایک بیٹے کا عزم اور انسانیت کا درد
1992 کی عالمی شہرت کے پیچھے ایک ایسا زخم چھپا تھا جس نے عمران خان کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ جب ان کی والدہ، شوکت خانم، کینسر جیسی موذی بیماری سے لاہور کے جناح ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھیں، تو ایک ایسا لمحہ آیا جس نے خان کی پوری زندگی بدل دی۔ ڈاکٹر نے ایک ہنگامی انجکشن منگوانے کا کہا، لیکن اس کی قیمت اس وقت خان کی جیب میں موجود رقم سے کہیں زیادہ تھی۔ جب تک وہ رقم کا انتظام کرتے اور دوا لاتے، وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ ڈاکٹر کا وہ جملہ کہ "اس انجکشن کے بغیر زندگی نہیں بچائی جا سکتی" حقیقت بن چکا تھا۔ ان کی والدہ انتقال کر گئیں۔ اسی کرب اور بے بسی نے عمران خان کے اندر اس عزم کو جنم دیا کہ وہ ایک ایسا ہسپتال بنائیں گے جہاں غریب کو پیسے کی کمی کی وجہ سے اپنے پیاروں کو کھونا نہ پڑے۔
سیاست کی بساط بچھنے سے بہت پہلے، جب عمران خان صرف کرکٹ کے ہیرو تھے، نواز شریف نے انہیں سیاست میں مدعو کیا۔ یہ وہ دور تھا جب خان کی مقبولیت آسمان کو چھو رہی تھی۔ نواز شریف جانتے تھے کہ اگر یہ "جادوئی کھلاڑی" ان کی ٹیم میں شامل ہو گیا تو مخالفین کا صفایا ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ خان کو نہ صرف پارٹی میں بڑے عہدے بلکہ وزارتوں تک کی پیشکش کی گئی، لیکن خان کا مزاج "کپتانی" کا تھا، "کھلاڑی" بننے کا نہیں۔ انہوں نے اس پیشکش کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ وہ اپنی راہ خود متعین کریں گے۔ اس انکار نے مستقبل کی اس عظیم سیاسی دشمنی کی بنیاد رکھ دی جسے ہم آج دیکھ رہے ہیں۔
25 اپریل 1996: وہ تاریخی دن جب لاہور میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھی گئی۔
بانی ارکان: اس سفر میں عمران خان کے ساتھ محمود رشید، احسن رشید، حامد خان اور دیگر چند مخلص دوست شامل تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سیاست کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر خان کا ساتھ دیا۔
روایتی سیاست دانوں نے خان کا مذاق اڑانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ کئی ناقدین نے تحریک انصاف کو "ٹانگا پارٹی" کا نام دیا، یہ طنز اس لیے تھا کہ پارٹی کے ارکان اتنے کم تھے کہ وہ ایک ٹانگے میں سما سکتے تھے۔ 1997 کے پہلے الیکشن میں خان کا سامنا تلخ حقیقت سے ہوا۔ خان خود بھی اپنی نشست نہ جیت سکے اور تحریک انصاف کو پورے ملک سے ایک بھی سیٹ نہ ملی۔ یہ ایک بڑا دھچکا تھا، لیکن خان کے "جادو" کا ابھی آنا باقی تھا۔
جب پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا، تو عمران خان نے ابتدائی طور پر مشرف کا ساتھ دیا کیونکہ وہ کرپشن کے خلاف مشرف کے "سات نکاتی ایجنڈے" سے متاثر تھے۔ تاہم، جب مشرف نے اقتدار کی طوالت کے لیے سیاست دانوں سے سمجھوتہ شروع کیا اور ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کو ساتھ ملایا، تو خان کا ضمیر جاگ اٹھا اور وہ مشرف کے بدترین مخالف بن گئے۔ 2002 کے الیکشن میں خان صرف اپنی آبائی نشست (میانوالی) سے جیت پائے اور اکیلے پارلیمنٹ میں "ون مین شو" بنے رہے۔
پاکستان کی تاریخ کے وہ 30 سال جب اقتدار صرف دو خاندانوں، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے گرد گھومتا رہا۔ راولپنڈی سرکار باری باری دونوں کو موقع دیتی رہی۔ جنرل ضیاء کے سیاسی جانشین نواز شریف اپنے پورے خاندان سمیت سیاست پر قابض ہوئے، تو دوسری طرف بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف زرداری صدر بنے اور بلاول سے لے کر فریال تالپور تک، پورا خاندان سیاست کی بساط پر پھیل گیا۔ عمران خان، جو پچھلے 30 سال سے اس موروثی نظام کے سخت ترین مخالف تھے، خاموشی سے اپنی طاقت مجتمع کر رہے تھے۔
لاہور کا مینار پاکستان گواہ بنا اس سحر کا جس نے بڑے بڑے سیاسی بتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ "ٹانگا پارٹی" اب ایک "بس پارٹی" بن چکی تھی اور اس دن وہ ایک "سونامی" میں بدل گئی۔ میدان میں سر دھرنے کی جگہ نہ تھی؛ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع تھا۔ یہاں سے خان نے "تبدیلی" اور "نئے پاکستان" کا وہ نعرہ دیا جس نے نوجوانوں کے لہو کو گرما دیا۔ اب ہر کسی کو معلوم ہو چکا تھا کہ میدان میں تیسری قوت آ چکی ہے۔
2011 کے بعد الیکٹیبلز جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہونے لگے۔ لیکن 2013 کے الیکشن میں راولپنڈی سرکار کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔ نتائج توقعات کے برعکس آئے، تحریک انصاف تیسرے نمبر پر رہی اور نواز شریف ایک بار پھر وزیراعظم بن گئے۔ عمران خان نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور "چار حلقے کھولنے" کے مطالبے سے شروع ہونے والا یہ سفر اسلام آباد کے طویل ترین دھرنے پر منتج ہوا، جس نے پاکستانی سیاست کے رخ کو ہمیشہ کے لیے موڑ دیا۔
عمران خان کی انتھک محنت رنگ لائی جب ان کے ہاتھ "ترپ کا پتہ" یعنی پانامہ اسکینڈل لگا۔ شریف خاندان کی کرپشن قصہ پارینہ بننے لگی اور نواز شریف تاحیات نااہل ہو گئے۔ میاں صاحب کا اپنے بھائی شہباز شریف پر عدم اعتماد ہی تھا کہ شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنایا گیا، لیکن عوام ان روایتی پارٹیوں سے دور ہو چکی تھی۔ پنڈی سرکار کو بھی اندازہ ہو گیا کہ اب خان کی لہر کو روکنا ناممکن ہے۔ آخر کار، 2018 کے الیکشن میں خان نے شاندار کامیابی سمیٹی اور پاکستان کے وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔
ساڑھے تین سالہ اقتدار کے بعد ایک تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے خان کو ہٹایا گیا، جس کے بعد ایک ایسا طوفان آیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ عمران خان پر مقدمات کی بھرمار کر دی گئی، جن کی تعداد سینکڑوں تک جا پہنچی۔ ان پر مختلف کیسز بنائے گئے، جن میں سائفر کیس، توشہ خانہ اور عدت کیس نمایاں تھے۔
عمران خان کو متعدد بار سزا سنائی گئی، لیکن ان کے حامی اور قانون کے ماہرین ان فیصلوں کو غیر قانونی سزا قرار دیتے رہے ہیں۔ آج عمران خان اڈیالہ جیل کی کال کوٹھڑی میں قید ہیں، جہاں انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ جس کپتان نے 1992 میں ورلڈ کپ جیتا تھا، آج وہ پاکستان کے مستقبل کی سب سے بڑی جنگ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی سے لڑ رہا ہے۔
✍️ تحقیق و تحریر: ڈاکٹر عدنان عمر
کیا اڈیالہ جیل کی دیواریں اس "جادوئی سحر" کو قید رکھ پائیں گی؟
وہ کون سے خفیہ مہرے ہیں جو اب بھی بساطِ سیاست پر حرکت کر رہے ہیں؟
کیا "کپتان" کا آخری اوور ابھی باقی ہے یا کھیل ختم ہو چکا؟
Nice information
ReplyDeleteHero
ReplyDelete