برمودا ٹرائینگل کا خوفناک سچ: 2026 کی وہ تحقیق جس نے سائنسدانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا!
شیرِ میسور سلطان فتح علی ٹیپو کو دنیا سے رخصت ہوئے صدیاں بیت گئیں، لیکن ان کی لیگیسی آج بھی کائنات کے سینے پر نقش ہے۔ دنیا انہیں صرف ایک بہادر جنگجو کے طور پر جانتی ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ سحر انگیز ہے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر 18ویں صدی کے میسور میں وہ راکٹ ایجاد نہ ہوتے، تو آج دنیا کی سب سے بڑی خلائی ایجنسی NASA کا شاید وجود ہی نہ ہوتا؟ جی ہاں! یہ وہی ٹیکنالوجی ہے جس نے انسان کے لیے خلا کے دروازے کھولے، اور اس کا سہرا کسی مغربی سائنسدان کے نہیں، بلکہ سلطان ٹیپو کے سر جاتا ہے۔
یہی وہ ٹیکنالوجی تھی جسے سقوطِ میسور کے بعد انگریزوں نے چرا کر انگلینڈ بھیجا اور پھر اسی کی بنیاد پر جدید میزائل پروگرام کھڑے کیے گئے۔ آج جب ناسا کے استقبالیہ پر سلطان کی فوج کی تصویر نظر آتی ہے، تو وہ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ "راکٹ کا اصل باپ" کوئی اور نہیں، صرف شیرِ میسور ہے۔ اگر وہ راکٹ نہ ہوتے، تو شاید نیل آرمسٹرانگ کبھی چاند پر قدم رکھنے کا خواب بھی نہ دیکھ سکتا۔
بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ جب امریکہ اپنی آزادی کی جنگ (1775-1783) برطانیہ کے خلاف لڑ رہا تھا، تو سات سمندر پار میسور کا شیر برطانیہ کی طاقت کو کچلنے میں مصروف تھا۔ سلطان ٹیپو برطانیہ کو صرف ہندوستان کا دشمن نہیں، بلکہ انسانیت کا لٹیرا سمجھتے تھے۔ انہوں نے "دشمن کا دشمن دوست" کے اصول پر عمل کرتے ہوئے فرانس اور امریکہ کے حامیوں سے رابطے استوار کیے۔ سلطان کا مقصد برطانیہ کو عالمی سطح پر اتنا کمزور کرنا تھا کہ وہ دوبارہ کسی ملک کو غلام نہ بنا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی اپنی آزادی کی خوشی میں سلطان ٹیپو کے نام کے گیت گاتے تھے، کیونکہ میسور کی جنگوں نے برطانوی فوج کا ایک بڑا حصہ ہندوستان میں الجھائے رکھا، جس کا براہِ راست فائدہ امریکہ کو پہنچا۔
ناسا کے 'والوپس فلائٹ فیسیلٹی' کے استقبالیہ پر لگی ایک پینٹنگ محض ایک تصویر نہیں، بلکہ ایک حقیقت کا اعتراف ہے۔ ناسا یہ مانتا ہے کہ اگر ٹیپو سلطان کے راکٹ ڈیزائن (میسورین راکٹ) 1799 میں انگریزوں کے ہاتھ نہ لگتے، تو ولیم کونگریو کبھی جدید راکٹ نہ بنا پاتا، اور شاید امریکہ کا خلائی پروگرام دہائیوں پیچھے رہ جاتا۔
"سلطان ٹیپو ایک عظیم حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سائنسی ذہن رکھنے والے انسان تھے۔ جب میں نے ناسا میں ان کی تصویر دیکھی تو مجھے فخر ہوا کہ راکٹ ٹیکنالوجی کا بانی ایک ہندوستانی مسلمان تھا۔" — ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام (سابق صدرِ ہند و ایٹمی سائنسدان)
"ٹیپو سلطان وہ پہلا انسان تھا جس نے میدانِ جنگ میں راکٹ کے ذریعے دشمن کے دلوں میں خوف پیدا کیا اور جدید میزائل سازی کی بنیاد رکھی۔" — پروفیسر ستیش دھون (اسرو ISRO کے سابق چیئرمین)
4 مئی 1799 کی وہ منحوس شام، جب شیرِ میسور کا جسدِ خاکی ابھی سرد بھی نہیں ہوا تھا، انگریزوں نے سرنگا پٹم کے قلعے میں ایک ایسی لوٹ مار شروع کی جو صرف سونے چاندی تک محدود نہیں تھی۔ برطانوی کرنل ولیم کونگریو کی نگرانی میں سلطان کے خفیہ اسلحہ خانوں سے 700 سے زائد مکمل راکٹ اور 9000 راکٹوں کا خام مال قبضے میں لیا گیا۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی "سائنسی چوری" تھی، کیونکہ انہی نمونوں کو انگلینڈ لے جا کر "کونگریو راکٹس" کا نام دیا گیا اور دنیا کو یہ باور کرایا گیا کہ یہ انگریزوں کی ایجاد ہے۔
کچھ مورخین اور ریسرچرز ایسی باتیں کرتے ہیں جو عام تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتیں:
اگر ٹیپو سلطان کو غداری کا سامنا نہ ہوتا اور وہ مزید 20 سال حکومت کر لیتے، تو شاید آج ہندوستان میزائل ٹیکنالوجی میں امریکہ اور روس سے کہیں آگے ہوتا۔ شیرِ میسور کی شہادت محض ایک انسان کی موت نہیں تھی، بلکہ ایک "اسلامی سائنسی انقلاب" کا قتل تھا۔ آج ناسا کی دیواریں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ راکٹ کا اصل وارث وہی ہے جو "ایک دن کی شیر کی زندگی" پر یقین رکھتا تھا۔
جب ٹیپو سلطان انگریزوں سے نبرد آزما تھے، تو مغل سلطنت (شاہ عالم ثانی کے دور میں) انتہائی کمزور ہو چکی تھی اور عملی طور پر مرہٹوں اور انگریزوں کے زیرِ اثر تھی۔
سلطان ٹیپو نے خلیفہءِ وقت (سلطنتِ عثمانیہ) کو سفیر بھیجے اور جہاد کا فتویٰ مانگا، لیکن عثمانیوں نے دو وجوہات کی بنا پر مدد سے معذرت کی:
نپولین بوناپارٹ، ٹیپو سلطان کا بہت بڑا مداح تھا۔ اس نے مصر سے سلطان کو ایک خط لکھا تھا: "تمہیں یہ معلوم ہو چکا ہوگا کہ میں بحیرہ احمر کے ساحل پر ایک ایسی عظیم فوج کے ساتھ پہنچ چکا ہوں جو تمہیں انگلستان کے جوئے سے آزاد کرانے کے لیے بے تاب ہے"۔ اگر نپولین کا بحری بیڑہ انگریزوں کے ہاتھوں تباہ نہ ہوتا، تو وہ میسور پہنچ کر ٹیپو سلطان کے ساتھ مل کر انگریزوں کو سمندر میں غرق کر چکا ہوتا۔
وہ معلومات جو تاریخ کی گرد میں دبی رہیں، مگر آج کی جدید سائنس ان کی معترف ہے۔
تحقیق و تحریر:
اس ریسرچ کو دوسروں تک پہنچائیں:
Hero tepu sultan
ReplyDeleteGood information Dr sahib
ReplyDelete