سٹنگر، کوکاکولا، پیپسی بوتل کا جانموا زہر: سٹینگ اور کولڈ ڈرنکس کی مقبولیت یا ہنستے کھیلتے دلوں کی موت؟
کائنات کا ایک اٹل قانون ہے کہ جب بھی مٹی کا بنا ہوا انسان اپنی اوقات بھول کر خدائی کا دعویٰ کرنے لگتا ہے، تو قدرت اسے ایسا سبق سکھاتی ہے جو تاریخ کے سینے پر عبرت کی داستان بن جاتا ہے۔ یہ کہانی کسی افسانے یا فلم کی نہیں، بلکہ تاریخ کے ایک ایسے سچے اور ہولناک واقعے کی ہے جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور انسانی تکبر کو سمندر کی گہرائیوں میں دفن کر دیا۔
تاریخ کے اوراق ہمیں 10 اپریل 1912ء کے اس بدقدمت دن کی طرف لے جاتے ہیں، جب انگلینڈ کی بندرگاہ ساؤتھمپٹن پر ایک عجیب ہی چہل پہل تھی۔ آر ایم ایس ٹائٹینک (RMS Titanic)—اپنے دور کا سب سے بڑا، سب سے عالی شان اور سب سے پرتعیش سمندری جہاز، اپنے پہلے سفر کے لیے بالکل تیار کھڑا تھا۔
یہ جہاز صرف مسافروں کو لے جانے کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس دور کے انسان کے غرور اور سائنسی ترقی کے گھمنڈ کا ایک جیتا جاگتا اشتہار تھا۔ اس عظیم الشان جہاز نے انگلینڈ سے اپنی منزل، یعنی امریکہ کے شہر نیویارک کی طرف بڑھنا شروع کیا۔
اس کے عرشے پر ہر طرح کے لوگ سوار تھے؛ ایک طرف دنیا کے امیر ترین صنعت کار اور نامور اداکار تھے جن کے لیے یہ سفر محض تفریح تھا۔ دوسری طرف وہ غریب تارکینِ وطن بھی اس جہاز کے نچلے حصوں میں موجود تھے، جو امریکہ میں ایک نئی اور بہتر زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے سفر کر رہے تھے۔
اس عظیم جہاز کی کمانڈ 62 سالہ سینیئر کیپٹن ایڈورڈ جان سمتھ کے ہاتھوں میں تھی، جنہیں سمندر کا ایک وسیع اور طویل تجربہ حاصل تھا۔ جہاز کے روانہ ہوتے وقت مسافروں، عوام اور میڈیا میں جوش و خروش کا ایک طوفان تھا، کیونکہ ہر کوئی اس عجوبے کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا۔
ٹائٹینک صرف سائز میں بڑا نہیں تھا، بلکہ اس کی لمبائی تقریباً 269 میٹر اور اونچائی 53 میٹر سے بھی زیادہ تھی، جو اس وقت کی بڑی بڑی عمارتوں کو بونا ثابت کر رہی تھی۔ اس عظیم الشان ساخت کا مقصد دنیا پر یہ ثابت کرنا تھا کہ انسان سمندروں پر اپنی حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔
اربوں روپے کی لاگت: اس زمانے میں اس جہاز کو بنانے پر 75 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے تھے، جو اگر آج کے دور کی مہنگائی اور کرنسی کی ویلیو کے حساب سے دیکھے جائیں تو 40 کروڑ ڈالر (تقریباً 110 ارب روپے) سے بھی زیادہ کی خطیر رقم بنتی ہے۔
جہاز کے اندر داخل ہوتے ہی انسان دنگ رہ جاتا تھا؛ اس کی آرائش و زیبائش اور سہولیات دنیا کے کسی بھی فائیو اسٹار ہوٹل کو بہت پیچھے چھوڑ چکی تھیں۔ ہر ایک کونے کو اتنی نفاست سے تراشا گیا تھا کہ دیکھنے والے کو یہ سمندری جہاز نہیں بلکہ سمندر پر تیرتا ہوا کوئی شاہی محل نظر آتا تھا۔
جہاز کے اندرونی حصوں میں قیمتی لکڑی کی نقش و نگار والی دیواریں، ہیرے کی طرح چمکتے ہوئے شیشے، اور شاہی انداز کی دو عظیم الشان سیڑھیاں بنائی گئی تھیں جو فرسٹ کلاس کے مسافروں کو نیچے ہال تک لے جاتی تھیں۔ ان سیڑھیوں کے اوپر نصب شیشے کا گنبد دن کے وقت روشنی کا ایک دلفریب سماں پیدا کرتا تھا۔
پرتعیش ترین سہولیات: تفریح اور عیاشی کا یہ عالم تھا کہ جہاز کے اندر گرم پانی کا سوئمنگ پول، ترک حمام، الیکٹرک باتھ، اسکواش کورٹ، چار بڑے اور مہنگے ریسٹورنٹ، دو شاندار سیلون اور ایک وسیع لائبریری بھی موجود تھی۔
لیکن ان تمام مادی آسائشوں سے بڑھ کر، اس جہاز کو بناتے وقت سیکیورٹی اور حفاظت کے ایسے بلند و بانگ دعوے کیے گئے تھے جنہیں سن کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی تھی اور لوگ اسے انسانی تاریخ کی سب سے محفوظ ترین ایجاد سمجھ رہے تھے۔
جہاز بنانے والی مشہور کمپنی "وائٹ اسٹار لائن" کا دعویٰ تھا کہ یہ جہاز ایسے جدید واٹر ٹائٹ خانوں اور ڈبل پیندے سے تیار کیا گیا ہے کہ اگر اس کے کچھ حصے پانی سے بھر بھی جائیں، تب بھی یہ سمندر میں کبھی ڈوب ہی نہیں سکتا۔
خدائی کا دعویٰ اور تکبر: یہاں انسان نے قدرت کو چیلنج کرنے کی سب سے بڑی بھول کی؛ کمپنی کے وائس پریسیڈنٹ نے میڈیا کے سامنے کھڑے ہو کر انتہائی تکبر سے کہا تھا کہ "یہ جہاز کبھی نہ ڈوبنے والا (Unsinkable) ہے اور خود خدا بھی اسے نہیں ڈبو سکتا"۔
وہ نادان انسان یہ بھول گیا تھا کہ کائنات کی ہر چیز ایک مقررہ نظام اور ربِ کائنات کے حکم کے تابع ہے۔ جب انسان لکڑی اور لوہے کے ایک ڈھانچے پر اتنا بڑا گھمنڈ کرنے لگے، تو قدرت کا توازن حرکت میں آ جاتا ہے۔
قرآنِ پاک کی وہ سچی آیت اس منظر پر بالکل فٹ بیٹھتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین پر اکڑ کر نہ چلو، اور بے شک اللہ کسی تکبر کرنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا؛ لیکن انسان دنیاوی چکا چوند میں اندھا ہو کر اس ابدی سچائی کو پسِ پشت ڈال چکا تھا۔
۱۔ بائیومیٹرک سائز کا موازنہ: ٹائٹینک اپنے دور کی سب سے بڑی متحرک انسانی ساخت تھی۔ اس کا سائز اتنا بڑا تھا کہ اس کے صرف دھویں نکالنے والے پائپ (Funnels) اتنے چوڑے تھے کہ ان میں سے دو ٹرینیں بیک وقت باآسانی گزر سکتی تھیں۔
۲۔ امیر ترین مسافر کا انجام: جہاز پر سوار سب سے امیر ترین مسافر "جان جیکب آسٹور فور" تھے، جن کی دولت اس وقت تقریباً 87 ملین ڈالر تھی (جو آج کے اربوں ڈالر بنتے ہیں)۔ اتنی دولت بھی انہیں سمندر کی بے رحم موجوں سے نہ بچا سکی اور وہ جہاز کے ساتھ ہی ڈوب گئے۔
۳۔ بجٹ کا تضاد: جیمز کیمرون کی مشہورِ زمانہ فلم "ٹائٹینک" بنانے پر جتنا خرچہ آیا تھا، وہ رقم اس اصل ٹائٹینک جہاز کو بنانے میں آنے والی کل لاگت سے بھی کہیں زیادہ تھی! یعنی نقل اصل سے مہنگی ثابت ہوئی۔
۴۔ لائف بوٹس کی سنگین کمی: جہاز پر لائف بوٹس کی تعداد جان بوجھ کر کم رکھی گئی تھی تاکہ فرسٹ کلاس کے مسافروں کے لیے ڈیک (عرشہ) کھلا رہے اور سمندر کا نظارہ خراب نہ ہو۔ اس مادی خوبصورتی کی قیمت 1500 انسانوں نے اپنی جان دے کر چکائی۔
۵۔ منجمد پانی کا جھٹکا: جس وقت ٹائٹینک ڈوبا، سمندری پانی کا درجہ حرارت منفی 2 ڈگری سیلسیس تھا۔ اس ہولناک سردی میں انسان کا جسم صرف 4 سے 5 منٹ کے اندر مکمل مفلوج ہو جاتا ہے اور اعصابی نظام کام کرنا بند کر دیتا ہے۔
۶۔ سیکنڈوں کی تاخیر: ماہرینِ فلکیات اور سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر سامنے موجود برفانی چٹان (Iceberg) کو صرف 30 سیکنڈ پہلے دیکھ لیا جاتا اور جہاز کا رخ موڑ دیا جاتا، تو ٹائٹینک تاریخ کے سب سے بڑے حادثے سے بچ سکتا تھا۔
۷۔ وفادار موسیقاروں کا گروہ: حادثے کے وقت جب ہر طرف موت کا رقص جاری تھا اور لوگ زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے، جہاز کے بینڈ کے موسیقار آخری لمحے تک عقیدت اور لوگوں کے اعصاب کو پرسکون رکھنے کے لیے دھنیں بجاتے رہے، یہاں تک کہ وہ خود بھی غرق ہو گئے۔
۸۔ کتے بھی بچ گئے: مسافروں کے علاوہ جہاز پر بارہ پالتو کتے بھی فرسٹ کلاس میں سفر کر رہے تھے۔ انتہائی ہنگامی صورتحال کے باوجود، ان میں سے تین کتوں کو لائف بوٹس کے ذریعے بچا لیا گیا تھا۔
۹۔ دوربینوں کی گمشدگی: کروز نیسٹ پر موجود چوکیداروں کے پاس اس رات دوربین (Binoculars) موجود نہیں تھی، کیونکہ وہ جس لاکر میں رکھی تھی اس کی چابی سفر شروع ہونے سے پہلے ہی کہیں گم ہو گئی تھی! ایک چھوٹی سی چابی اتنی بڑی بربادی کا سبب بنی۔
۱۰۔ ڈارک ویب اور ملبہ: ٹائٹینک کا ملبہ سمندر کی تہہ میں اتنی گہرائی (تقریباً 3.8 کلومیٹر نیچے) پر موجود ہے کہ وہاں مکمل اندھیرا ہے اور پانی کا دباؤ اتنا شدید ہے جیسے آپ کے جسم پر کئی ہوائی جہاز رکھ دیے جائیں۔
۱۱۔ بیکٹیریا کا لقمہ: سمندر کے نیچے موجود ایک خاص لوہا خور بیکٹیریا جسے **Halomonas titanicae** کہتے ہیں، وہ روزانہ ٹائٹینک کے فولادی ڈھانچے کو کھا رہا ہے۔ سنہ 2030ء تک یہ پورا جہاز صرف مٹی کا ڈھیر بن جائے گا۔
۱۲۔ ادھورا کینسل ڈرل: جس دن ٹائٹینک چٹان سے ٹکرایا، اسی صبح مسافروں کو لائف بوٹ استعمال کرنے کی ایک ہنگامی مشق (Safety Drill) کروانی تھی، لیکن کیپٹن نے یہ سوچ کر اسے آخری وقت میں کینسل کر دیا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
۱۳۔ پہلا ہنی مون کا تضاد: جہاز پر کئی نئے شادی شدہ جوڑے اپنا ہنی مون منانے آئے ہوئے تھے۔ ان میں سے کئی خواتین کو لائف بوٹس میں زبردستی بٹھا دیا گیا جبکہ ان کے شوہر پیچھے جہاز پر ہی موت کے منہ میں چلے گئے۔
۱۴۔ چوتھی چمنی کا دھوکہ: ٹائٹینک کی چار عظیم الشان چمنیاں (Funnels) تھیں، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف تین کام کرتی تھیں؛ چوتھی چمنی صرف جہاز کی خوبصورتی اور اس کی عظمت کا رعب جمانے کے لیے نقلی بنائی گئی تھی۔
۱۵۔ قدرت کا آخری سچ: ٹائٹینک کا ڈوبنا اس بات کی گواہی ہے کہ جب انسان لوہے اور اپنی ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ مان کر بیٹھ جاتا ہے، تو قدرت کا ایک ادنیٰ سا ذرہ (برف کا ٹکڑا) بھی اس کے پورے نظام کو سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں لاوارث چھوڑ دیتا ہے۔
سفر کے آغاز کے ٹھیک دو دن بعد، یعنی ۱۲ اپریل ۱۹۱۲ء کو، ٹائٹینک کے جدید وائرلیس کنٹرول روم میں سمندر کی لہروں کے پار سے پہلی خطرناک اور ہنگامی وارننگ موصول ہوئی۔ یہ وارننگ کوئی معمولی سگنل نہیں تھا، بلکہ قدرت کی طرف سے آگے موجود تباہی کا پہلا اشارہ تھا۔
بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) جس کا سینہ چیرتا ہوا ٹائٹینک انتہائی تیزی سے امریکہ کی طرف بڑھ رہا تھا، ان دنوں برف کے بڑے بڑے پہاڑوں یعنی آئس برگز (Icebergs) سے بھرا ہوا تھا۔ یہ برفانی چٹانیں سمندر کی سطح پر کسی سوئے ہوئے جائنٹ کی طرح موجود تھیں، جو کسی بھی جہاز کو سیکنڈوں میں تباہ کرنے کی طاقت رکھتی تھیں۔
سمندری مواصلات کا نظام: اس دور میں سمندر میں سفر کرنے والے جہاز ریڈیو اور وائرلیس کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے۔ جیسے ہی کسی جہاز کو راستے میں برف نظر آتی، وہ فوراً اردگرد موجود تمام جہازوں کو سگنل بھیج کر الرٹ کر دیا کرتے تھے تاکہ وہ اپنا راستہ بدل لیں۔
ان ابتدائی پیغامات اور خطرے کی گھنٹی کو پا کر ٹائٹینک کے کپتان نے جہاز کا راستہ تو دو بار بدلا تاکہ خطرے کے زون سے بچا جا سکے، لیکن اپنے جہاز کی اس تیز رفتار کو کم کرنے کی زحمت بالکل گوارا نہیں کی جس پر کمپنی کو بڑا ناز تھا۔
ٹائٹینک ۲۱.۵ ناٹس (تقریباً ۴۰ کلومیٹر فی گھنٹہ) کی انتہائی تیز اور خطرناک رفتار سے اندھیرے سمندر کا سینہ چیرتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔ اتنے بڑے اور وزنی جہاز کے لیے یہ رفتار سمندر کے اس حصے میں خودکشی کے مترادف تھی، جہاں ہر طرف برفانی چٹانیں تیر رہی تھیں۔
۷ لگاتار وارننگز کی توہین: دو دن مزید گزر گئے، اور ۱۴ اپریل ۱۹۱۲ء کی اس ہولناک اور آخری تاریخ کو ٹائٹینک کو دیگر جہازوں کی طرف سے مزید ۷ بار برفانی چٹانوں کی سخت وارننگ دی گئی، لیکن غرور کے نشے میں چور عملے اور کپتان نے ان تمام پیغامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔
آہستہ آہستہ وہ بدقسمت دن ڈھل گیا، سورج غروب ہوا اور سمندر کا درجہ حرارت تیزی سے گرنے لگا۔ ہوا اتنی ٹھنڈی ہو چکی تھی جیسے جسم میں سوئیاں چبھ رہی ہوں، اور سمندر کا پانی جمنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔
اس رات کی سب سے عجیب، سحر انگیز اور پراسرار بات یہ تھی کہ آسمان پر چاند بالکل غائب تھا۔ چاندنی رات نہ ہونے کی وجہ سے سمندر کی سطح پر گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، جس کی وجہ سے دور افق پر نظر رکھنا اور کسی خطرے کو پہلے سے دیکھنا ناممکن حد تک مشکل ہو چکا تھا۔
کروز نیسٹ کا پہرا: جہاز کے سب سے اگلے اور اونچے مستول پر ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم بنایا گیا تھا جسے "کروز نیسٹ" کہتے ہیں۔ یہاں ایک چوکیدار کی ڈیوٹی ہوتی تھی جو سخت ٹھنڈی ہواؤں اور اندھیرے میں اپنی آنکھیں پھاڑ کر سامنے کے راستے پر نظر رکھتا تھا۔
رات کے ٹھیک ۱۱ بج کر ۳۹ منٹ پر، وہاں تعینات چوکیدار فریڈرک فلیٹ سخت ٹھنڈ کی وجہ سے آنکھوں میں آنے والے انسوؤں کو صاف کرتے ہوئے سامنے دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا، کہ اچانک گھپ اندھیرے میں سے اس کے سامنے موت کا ایک ہولناک اور بہت بڑا کالا سایہ ابھرا—وہ ایک عظیم الشان برفانی پہاڑ تھا جو ٹائٹینک کے بالکل سامنے کھڑا تھا!
سامنے کھڑی اس دیو ہیکل برفانی چٹان کو دیکھ کر چوکیدار فریڈرک فلیٹ کے اعصاب شل ہو گئے۔ اس نے بغیر ایک سیکنڈ ضائع کیے خطرے کی گھنٹی کو 3 بار بجایا تاکہ نیچے سوئے ہوئے لوگ اور عملہ بیدار ہو سکے، اور فوراً فون اٹھا کر کنٹرول روم (برج) پر موجود افسران کو چیختے ہوئے پیغام دیا: "سامنے برف کا پہاڑ ہے، جہاز کو فوراً موڑو!"
فرسٹ آفیسر ولیم نے جیسے ہی یہ ہنگامی پیغام سنا، ان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ انہوں نے سیکنڈوں کے اندر انجن روم کو سگنل دیا کہ جہاز کے انجنوں کو الٹا چلایا جائے اور جہاز کو پوری طاقت سے بائیں طرف موڑ دیا جائے تاکہ اس خوفناک ٹکراؤ سے کسی طرح بچا جا سکے۔
برفانی چٹان کا ہولناک سائز: وہ برفانی پہاڑ کوئی معمولی چٹان نہیں تھی، وہ 200 ضرب 400 فٹ لمبی، یعنی فٹ بال کے ایک پورے میدان جتنی بڑی تھی اور پانی سے باہر اس کی اونچائی جہاز کے چوکیدار کے برابر پہنچ رہی تھی۔ سائنسدانوں کے مطابق اس ایک آئس برگ کا وزن تقریباً 15 لاکھ ٹن تھا۔
لیکن افسوس! قدرت اپنا حتمی فیصلہ صادر کر چکی تھی۔ انسان کے پاس سنبھلنے کا جو وقت تھا، وہ اس کے ہاتھ سے ریت کی طرح نکل چکا تھا۔ ٹھیک ایک منٹ بعد، یعنی رات 11:40 بجے، ٹائٹینک اس عظیم برفانی چٹان کے ساتھ رگڑ کھاتا ہوا جا ٹکرایا۔
یہ ٹکراؤ بظاہر اتنا خاموش تھا کہ جہاز کے اوپری حصوں میں سوئے ہوئے مسافروں کو صرف ایک ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوا، لیکن جہاز کے پیندے میں موجود مزدوروں اور انجینئرز کے لیے یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ تقریباً 10 سیکنڈ تک جہاز اس چٹان کے ساتھ رگڑ کھاتا رہا، جس سے فولادی چادروں پر شدید دباؤ آیا۔
جب لوہا کاغذ بن گیا: عام طور پر ہمارے گھروں کی برف لوہے کو نہیں کاٹ سکتی، لیکن جب 15 لاکھ ٹن وزنی چٹان تیز رفتار فولاد سے ٹکراتی ہے، تو دباؤ کی وجہ سے لوہا کاغذ کی طرح پھٹ جاتا ہے۔ اس رگڑ نے ٹائٹینک کے نچلے حصے میں کئی چھوٹے اور گہرے سوراخ کر دیے تھے۔
ٹکراؤ کے چند منٹ بعد ہی جہاز کے کپتان سمتھ اور اس کے چیف آرکیٹیکٹ (ڈیزائنر) تھامس اینڈریوز نقصان کا جائزہ لینے کے لیے نیچے کنٹرول رومز اور پیندے میں پہنچے۔ جب انہوں نے پانی کو اندر داخل ہوتے دیکھا، تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور وہ دونوں شدید صدمے کی حالت میں آگئے۔
جو انسان چند گھنٹے پہلے میڈیا کے سامنے کھڑا ہو کر اس جہاز کے "کبھی نہ ڈوبنے" کے دعوے کر رہا تھا، اب وہ اپنی آنکھوں سے اپنی سب سے بڑی ایجاد کو سمندر کا لقمہ بنتے دیکھ رہا تھا۔ سائنسی غرور کا محل سیکنڈوں میں زمین بوس ہو چکا تھا۔
6 واٹر ٹائٹ خانوں کی تباہی: انجینئرز کا ماننا تھا کہ اگر جہاز کے 16 واٹر ٹائٹ خانوں میں سے 4 خانوں میں پانی بھر جائے، تب بھی جہاز تیرتا رہے گا۔ لیکن اس بدقسمت ٹکراؤ نے ایک ساتھ 6 خانوں کو پھاڑ دیا تھا، جس کی وجہ سے پانی کی رفتار کو روکنا اب دنیا کی کسی مشین کے بس میں نہیں تھا۔
اب یہ بالکل واضح ہو چکا تھا کہ یہ جہاز چند گھنٹوں کا مہمان ہے۔ انسان نے سیکیورٹی کے نام پر جو دیواریں کھڑی کی تھیں، قدرت کے ایک ادنیٰ سے برف کے ٹکڑے نے ان سب کو ناکارہ بنا دیا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ جب اللہ کی تقدیر حرکت میں آتی ہے، تو انسان کی تمام تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔
ٹکراؤ کے ٹھیک 20 منٹ بعد، یعنی رات 12:00 بجے، جب جہاز کا اگلا حصہ تیزی سے پانی میں بیٹھ رہا تھا، کیپٹن سمتھ نے ریڈیو کنٹرول روم کا رخ کیا۔ انہوں نے اپنے سینیئر وائرلیس آپریٹر جیک فلپس کو حکم دیا کہ وہ فضا میں ہنگامی مدد کے سگنلز (Distress Calls) بھیجنا شروع کرے، تاکہ اگر کوئی جہاز آس پاس موجود ہو تو وہ ان کی جان بچانے آ سکے۔
جیک فلپس اس پوری کہانی کا وہ خاموش ہیرو تھا جس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر آخری لمحے تک اپنا فرض نبھایا۔ اس نے کمپیوٹر اور ریڈیو کی مدد سے ایک کے بعد دوسرا ہنگامی پیغام (SOS) سمندر کی فضاؤں میں چھوڑنا شروع کیا، لیکن شروع میں دور دور تک صرف بھیانک خاموشی اور ناکامی ہی جواب میں ملی۔
کارپیتھیا جہاز کا سگنل پکڑنا: رات 12:20 بجے سمندر میں کچھ فاصلے پر موجود ایک جہاز "آر ایم ایس کارپیتھیا" (RMS Carpathia) نے ٹائٹینک کا ہنگامی پیغام وصول کر لیا۔ ان کے آپریٹر نے فوراً اپنے کیپٹن کو جگایا، جنہوں نے سیکنڈوں میں اپنے جہاز کا رخ ٹائٹینک کی طرف موڑنے کا حکم دے دیا۔
لیکن یہاں بھی قدرت انسان کے صبر کا امتحان لے رہی تھی؛ کارپیتھیا جہاز ٹائٹینک سے تقریباً 107 کلومیٹر دور تھا۔ وہ اگر اپنی آخری حد اور پوری رفتار سے بھی ٹائٹینک کی طرف بڑھتا، تب بھی اسے پہنچنے میں ساڑھے 3 گھنٹے کا وقت لگنا تھا، جبکہ ٹائٹینک کے پاس اتنا وقت تھا ہی نہیں!
جب وائرلیس پیغامات سے فوری مدد کی امید ٹوٹنے لگی، تو کیپٹن نے عملے کو حکم دیا کہ وہ جہاز کے عرشے سے آسمان کی طرف چمکنے والے راکٹ اور سفید فلیئرز (Flares) فائر کرنا شروع کریں۔ وہ امید کر رہے تھے کہ اندھیری رات میں ان چمکتے ہوئے راکٹوں کو دیکھ کر کوئی نہ کوئی بحری جہاز ان کی طرف دوڑا چلا آئے گا۔
خواتین اور بچوں کو ترجیح: اسی دوران کیپٹن نے لائف بوٹس کو نیچے اتارنے کا حکم دیا۔ سمندری قانون اور پروٹوکول کے مطابق، سب سے پہلے خواتین اور بچوں کو ان بوٹس میں بٹھایا جا رہا تھا، لیکن جہاز پر موجود مسافروں کو اب بھی لگ رہا تھا کہ اتنے بڑے جہاز کو کچھ نہیں ہو سکتا۔
مسافروں کا یہ اندھا یقین اس لیے تھا کیونکہ جہاز بنانے والی کمپنی نے اشتہارات میں بار بار یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ جہاز کبھی ڈوب ہی نہیں سکتا۔ اسی خوش فہمی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلی لائف بوٹ جس میں 65 انسانوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، اس میں صرف 28 لوگ بیٹھ کر روانہ ہوئے اور آدھی بوٹ خالی چلی گئی!
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کائنات کا سچ سامنے آنے لگا۔ ایک کے بعد دوسرا خانہ پانی سے بھرتا گیا اور ٹائٹینک کا اگلا حصہ بھاری ہو کر پانی کے اندر دھنسنے لگا، جس سے جہاز کا پچھلا حصہ آہستہ آہستہ ہوا میں اوپر اٹھنے لگا۔
جب وہم حقیقت میں بدلا: رات 1:00 بجے تک جب پانی فرسٹ کلاس کے ڈیک تک پہنچ گیا، تو مسافروں پر یہ ہولناک حقیقت آشکار ہوئی کہ اب موت ان کے سر پر کھڑی ہے۔ اس احساس کے جاگتے ہی پورے جہاز پر ایک قیامت خیز ہنگامہ اور افرا تفری برپا ہو گئی، اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے پاگلوں کی طرح بھاگنے لگے۔
امیر اور غریب کا فرق مٹ چکا تھا، دولت کی چمک ماند پڑ چکی تھی اور ہر کوئی صرف اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔ قدرت نے سیکنڈوں میں انسانوں کے بنائے ہوئے تمام طبقات کو برابر کر دیا، اور وہ جہاز جو عیاشی کا مرکز تھا، اب چیخوں اور آہ و بکا کے ایک خوفناک میدان میں تبدیل ہو چکا تھا۔
رات کے 2:00 بج چکے تھے اور جہاز کا پچھلا حصہ اب ایک بہت بڑے مینار کی طرح سیدھا ہوا میں کھڑا تھا۔ اندھیرے سمندر میں ٹائٹینک کے تین دیو ہیکل پنکھے (Propellers) فضا میں صاف نظر آ رہے تھے اور جہاز پر موجود 1500 سے زائد لاچار انسان زندگی اور موت کی آخری جنگ لڑ رہے تھے۔
رات 2:05 بجے عملے نے جہاز سے آخری لائف بوٹ بھی سمندر میں اتار دی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اب جہاز پر موجود باقی لوگوں کے لیے بچنے کا کوئی ظاہری راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ اس ہولناک منظر پر ہر طرف رونے، دعائیں مانگنے اور معافی کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔
جب ٹائٹینک دو ٹکڑے ہوا: عینی شاہدین اور تاریخ دانوں کے مطابق، رات کے ٹھیک 2:20 بجے، ہوا میں معلق جہاز کا پچھلا حصہ اپنے ہی وزن کا دباؤ برداشت نہ کر سکا اور ایک خوفناک دھماکے کے ساتھ ٹائٹینک درمیان سے دو ٹکڑے ہو گیا۔ یہ انسان کی بنائی ہوئی سب سے مضبوط ترین ساخت کا آخری انجام تھا۔
جہاز کے دو ٹکڑے ہوتے ہی اس کا اگلا حصہ تیزی سے نیچے گیا اور چند ہی منٹوں میں وہ پورا کا پورا "کبھی نہ ڈوبنے والا جہاز" ہمیشہ کے لیے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق ہو گیا۔ انسان نے جس فولاد پر مان کیا تھا، قدرت نے اسے پانی کے ایک ادنیٰ سے جھٹکے سے مٹی میں ملا دیا۔
جو لوگ تیرنا جانتے تھے اور پانی کی سطح پر رہ گئے، ان کے لیے سمندر کا وہ منفی 2 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ایک جلاد بن گیا۔ اس ہولناک منجمد پانی میں گرتے ہی انسانی اعصاب مفلوج ہو گئے اور دل کی دھڑکنیں چند ہی منٹوں میں سردی (Hypothermia) کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے تھم گئیں۔
کپتان سمتھ کا پراسرار انجام: جہاز کے 62 سالہ کیپٹن ایڈورڈ سمتھ نے آخری وقت تک وہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔ کچھ روایات کے مطابق وہ جہاز کے وہیل (اسٹیئرنگ روم) کو تھامے ہوئے ہی سمندر میں غرق ہو گئے، جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ انہوں نے اس ہولناک ندامت کے بعد خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔
بچانے کے لیے نکلنے والا بحری جہاز "کارپیتھیا" صبح کے ٹھیک 3:30 سے 4:00 بجے کے درمیان اس بدقسمت مقام پر پہنچا، لیکن وہ ایک گھنٹہ لیٹ ہو چکا تھا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں زندہ انسانوں کے بجائے سمندر کی سطح پر تیرتی ہوئی صرف منجمد لاشیں ملیں، جو انسانی غفلت اور تکبر کا کچا چٹھا بیان کر رہی تھیں-
بعد میں ہونے والی تحقیقات نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں پتا چلا کہ محض 37 کلومیٹر دور موجود ایک اور جہاز "ایس ایس کیلیفورنین" اگر رات کو اپنا وائرلیس ریڈیو بند کر کے نہ سوتا اور ٹائٹینک کے راکٹوں کو سنجیدگی سے لیتا، تو شاید ایک بھی جان ضائع نہ ہوتی۔ لیکن جب قدرت کا فیصلہ آتا ہے، تو انسانوں کے اعصاب اور عقل پر بھی پردے پڑ جاتے ہیں۔
ملبہ بھی مٹ رہا ہے: ستمبر 1985ء میں، حادثے کے پورے 73 سال بعد ٹائٹینک کا ملبہ سمندر کے نیچے 3.8 کلومیٹر کی گہرائی میں دریافت ہوا۔ لیکن قدرت کا انصاف دیکھیے کہ وہاں موجود ایک خاص لوہا خور بیکٹیریا اس بچے کچے فولاد کو بھی روزانہ کھا رہا ہے، اور ماہرین کے مطابق سنہ 2030ء تک یہ جہاز مکمل طور پر مٹ جائے گا۔
ٹائٹینک کی یہ داستان آج 110 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی انسان کو یہ یاد دلاتی ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور مادیت پر جتنا بھی گھمنڈ کر لیا جائے، کائنات کے اصل مالک اور قدرت کے قوانین سے ٹکرانا مٹی کے بنے انسان کے لیے ناممکن ہے۔ جب تکبر حد سے بڑھتا ہے، تو زوال کا سمندر اسے ہمیشہ کے لیے گمنام کر دیتا ہے۔
اس عبرت ناک اور ایمان افروز داستان کو اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی شیئر کریں:
واٹس ایپ پر شئیر کریں
Allah
ReplyDelete